apna lahore

ٹی ٹونٹی سیریز کا ذلت آمیز انجام ،کیویز 1-4 سے فاتح‌قرار

لاہور (ندیم ساجد )نیوزی لینڈ نے پانچویں اور آخری ٹی20 میچ میں بھی پاکستان کو شکست دیکر سیریز 1-4 سے اپنے نام کرلی۔ویلنگٹن میں کھیلے گئے میچ میں قومی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 128 رنز بناسکی، اوپنرز پاکستان کو جارحانہ آغاز دینے میں ناکام رہے، حسن نواز ایک مرتبہ پھر صفر جبکہ محمد حارث 11 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔دیگر کھلاڑیوں میں عمیر بن یوسف اور محمد عثمان 7، 7، عبدالصمد 4، جہانداد خان 1، سفیان مقیم صفر پر پویلین روانہ ہوئے جبکہ شاداب خان نے 28 اور کپتان سلمان آغا 51 رنز رنز کی اننگز کھیلی، انکے علاوہ کوئی بلےباز خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہ ہوسکا۔قومی ٹیم میں‌نئے کھلاڑیوں‌کو موقع دیا گیا تھا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر کے قومی ٹیم میں‌اپنی جگہ پکی کر سکیں‌لیکن متعدد کھلاڑی ایسی غیر معیاری سٹروکس کھیل کر آئوٹ ہوئے گویا انہوں‌نے زندگی میں کبھی کرکٹ بیٹ کو ہاتھ تک نہ لگایا ہو .انٹرنیشنل لیول کی سیریز میں‌سکول کی سطح‌کے سٹروکس کھیل کر پاکستانی بلے بازوں نے اپنی وکٹیں تحفے میں نیوزی لینڈ کو پیش کر دیں‌.نیوزی لینڈ کی جانب سے جمی نیشم نے 5، جیکب ڈفی نے 2 جبکہ بین سیئرز اور ایش سودھی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔اوپنرز کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت نیوزی لینڈ نے ہدف محض 2 وکٹوں کے نقصان پر 10ویں اوور میں حاصل کرلیا، اوپنرز نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 93 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی تاہم فن ایلن 27 رنز بناکر وکٹ گنوابیٹھے، بعدازاں مارک چیمپمین بھی 3 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔میچ کے ہیرو ٹم سیفرٹ 93 رنز کی اننگز کھیلی جس میں 10 چھکے اور 4 چوکے شامل تھے۔پاکستان کی جانب سے سفیان مقیم نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔نیوزی لینڈ کیخلاف ٹیم میں جگہ بنانیوالے بائیں‌ہاتھ کے بائولر جہانداد خان نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں‌صرف 6 میچز کھیل رکھے ہیں‌جس میں‌29 وکٹیں ان کے نام ہیں‌،آل رائونڈر عبدالصمد نے صرف 13 فرسٹ کلاس میچز کھیلے ہیں‌جس میں ان کے کل رنز کی تعداد 323 ہے .فاسٹ بائولر محمد علی نے فرسٹ کلاس لیول پر 35 ٹی ٹونٹی میچز کھیلے ہیں‌جس میں ان کی 59 وکٹیں‌ہیں.بائیں‌ہاتھ کے سپن بائولر سفیان مقیم نے 19 میچوں‌میں‌28 وکٹیں اپنے نام کی ہیں‌.عمر یوسف نے 7 ٹی ٹونٹی میچز میں‌صرف 91 رنز بنانے میں‌کامیابی حاصل کی ہے .وکٹ کیپر بلے باز محمد حارث 14 ٹی ٹونٹی میچز میں‌191 رنز ہی بنا سکے ہیں.بائیں‌ہاتھ کے دو فاسٹ بائولرز شاہین شاہ آفریدی اور جہانداد خان کی بائولنگ کو دیکھا جائے تویہ دونوں بائولرز گیند کو سوئنگ کرانے میں‌اس طرح‌کامیاب نہیں‌ہوسکے جس طرح‌دوسری ٹیموں‌کے بائولرز کامیاب ہوتے ہیں.حارث رئوف جنہیں‌بگ بیش لیگ کی کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں شامل کیا گیا اب تک گیند کو سوئنگ کرنے اور مخالف بلے بازوں‌کو پریشان کرنے میں‌کامیاب نہیں‌ہوسکے.ان کے پاس رفتارموجود ہے لیکن سوئنگ نہ ہونے کی وجہ سے وہ کسی بھی ٹیم کے خلاف کارآمد ثابت نہیں‌ہورہے .ان اعداد و شمار اور سیریز کے نتائج کو دیکھتے ہوئے کسی صورت یہ نہیں‌کہا جا سکتا کہ یہ ٹیم پاکستان کی فتوحات میں اپنا کوئی بھی کردار ادا کر سکتی ہے لیکن دوسری جانب قومی کرکٹ ٹیم کے سلیکٹر عاقب جاوید نے دعویٰ‌کیا تھا کہ ان کی منتخب کردہ یہی قومی ٹیم ورلڈ کپ جیسے ایونٹ میں‌بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور انہی میں‌سے ورلڈ کپ کیلئے کھلاڑیوں‌کا انتخاب کیا جائے گا اب اگر اسی پرفارمنس کی بنیاد پر کھلاڑیوں‌کا انتخاب کیا جانا ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ورلڈ کپ میں‌یہی کھلاڑی کیسی کارکردگی کا مظاہرہ کریں‌گے اور ورلڈ کپ میں‌ان سے کس کارکردگی کی امید کی جا سکتی ہے .اگر سلیکشن کمیٹی اور پی سی بی آئندہ میگا ایونٹ کیلئے بہترین قومی ٹیم منتخب کرنا چاہتے ہیں‌تو انہیں‌ذاتی پسند نا پسند کو ترک کر کے میرٹ پر قومی ٹیم کا انتخاب کرنا ہوگا تاکہ یہ ٹیم مستقبل میں‌بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے.ورنہ ماضی میں‌قومی کرکٹ ٹیم جس طرح آئر لینڈ ،نیدرلینڈ اور امریکہ سے شکست کھا چکی ہے اس میں‌کوئی شک نہیں‌کہ اگر آئندہ بھی ٹیم سلیکشن میں‌اسی طرح‌کی غلطیاں‌کی گئیں‌تو قومی ٹیم شاید آئی سی سی کے رکن ممالک تمام ٹیموں سے شکست کھا کر نیا ریکارڈ قائم کر دے گی.قومی ٹیم میں‌کئی کھلاڑیوں‌کو پی ایس ایل میں‌کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم کا حصہ بنایا گیا لیکن ان کی کارکردگی دیکھنے کےبعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں‌ہے کہ پی ایس ایل کا معیار کہاں تک پہنچ چکا ہے ،کچھ کھلاڑی ہیں‌جو بیرون ملک لیگز میں‌شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں‌لیکن قومی ٹیم کی جانب سے جب انہیں‌موقع دیا جاتا ہے تو وہ ایسی کرکٹ کھیلتے ہیں‌گویا انہوں‌نے کلب کرکٹ کا آغاز آج سے ہی کیا ہے .آج افسوس سے یہ بات کہنا پڑرہی ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم میں‌عبدالرزاق ،شاہد آفریدی ،اظہر محمود، وسیم اکرم اور شعیب اختر جیسا ایک بھی کھلاڑی نہیں‌جس کی بائولنگ پر بھروسہ کر کے ہم میچ جیتنے کی حکمت عملی بنا سکیں کیونکہ اس وقت دستیاب بائولرز میں سے کسی کی بھی رفتار بمشکل 80 میل فی گھنٹہ تک پہنچ پاتی ہے لہٰذا اس رفتا رپر گیند کا ریورس سوئنگ ہونا یا بلے باز کو پریشان کرنا کسی صورت ممکن نہیں لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ ہمارے سلیکٹرز ایسے ہی کھلاڑیوں‌سے مطمئن اور خوش ہیں‌.بہر حال اگر ہمیں‌اپنی قومی کرکٹ ٹیم کی ساکھ بحال کرنی ہے اور اسے ایک بار پھر آئی سی سی کی رینکنگ میں‌ٹاپ پر لانا ہے تو ہمیں‌میرٹ کا قتل عام کرنے کی بجائے اسے فوقیت دینا ہوگی تاکہ ہم اپنی ٹیم کو دنیا کی اچھی ٹیموں کے ہم پلہ لاسکیں‌ورنہ اپنی ٹیم کی کامیابی ہمارے لئے ایک خواب ہی بن کر رہ جائے گی جس کی تعبیر کسی کے پاس موجود نہیں‌ ہوگی .

اپنا تبصرہ لکھیں