ایرانی ریال خریدنے والے ہوشیار! نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے

ایرانی ریال خریدنے والے ہوشیار! نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے

تہران: ایران کے مرکزی بینک نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ بلند نرخوں پر ایرانی ریال خریدنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ریال کی قدر ریکارڈ کم سطح تک گر چکی ہے، اس لیے مہنگے داموں غیر ملکی کرنسی خریدنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

بینک نے بتایا کہ ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 18 لاکھ 70 ہزار ریال تک پہنچ گئی ہے۔ اگر مارکیٹ میں توقعات بدلتی ہیں، سپلائی میں اضافہ ہوتا ہے یا مرکزی بینک مؤثر مداخلت کرتا ہے تو شرح تبادلہ میں کمی آ سکتی ہے، جس سے مہنگے داموں خریداری کرنے والوں کو نقصان ہو سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ریال یورو کے مقابلے میں 22 لاکھ 30 ہزار جبکہ برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے میں 25 لاکھ 80 ہزار ریال تک گر چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کرنسی کی مسلسل گراوٹ پہلے سے دباؤ کا شکار ایرانی معیشت میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی ریال حال ہی میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا، جہاں ایک ڈالر تقریباً 18 لاکھ ریال کے برابر ہو گیا تھا۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی برقرار ہے۔

ماہرین کے مطابق ابتدائی دنوں میں محدود درآمدات اور کم تجارتی سرگرمیوں کے باعث ریال نسبتاً مستحکم رہا، تاہم حالیہ عرصے میں اس کی قدر میں تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے، جس سے مہنگائی میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنگ بندی کے دوران امریکی بحری ناکہ بندی نے ایران کی معیشت پر مزید دباؤ ڈالا ہے، جس سے تیل کی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں جو ملک کے لیے زرمبادلہ کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں