
آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہونے والی پیشرفت کے بعد ایک نئی تحقیق میں تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ مستقبل میں ایسے سسٹمز سامنے آ سکتے ہیں جو ارتقائی عمل جیسی صلاحیت رکھتے ہوں گے، بالکل ویسے جیسے چارلس ڈارون کے نظریۂ ارتقا میں بیان کیا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق موجودہ اے آئی سسٹمز مخصوص ڈیٹا سیٹس پر تربیت پاتے ہیں، تاہم مستقبل کے ماڈلز خود کو بہتر بنانے، اپنی صلاحیتیں بڑھانے اور حتیٰ کہ ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔
برسلز یونیورسٹی (بیلجیئم) کی اس تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی سسٹمز بتدریج زیادہ طاقتور ہوتے جا رہے ہیں اور یہ عمل مستقبل میں مزید تیز ہو سکتا ہے۔
محققین نے وضاحت کی کہ جس طرح حیاتیاتی ارتقا کے ذریعے جاندار بدلتے اور مضبوط ہوتے ہیں، اسی طرح اے آئی سسٹمز بھی خود کو ری ڈیزائن کر کے تیزی سے بہتر ہو سکتے ہیں، اور انہیں کسی جینیاتی میوٹیشن کی ضرورت نہیں ہوتی۔
تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اے آئی سسٹمز اپنی کاپی بنانے اور خود کو بہتر کرنے کے قابل ہو گئے تو یہ عمل بہت تیزی سے پھیل سکتا ہے، اور مختلف سسٹمز ایک دوسرے سے یہ صلاحیتیں سیکھ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سب سے بڑا خطرہ یہ ہو سکتا ہے کہ اے آئی اتنی ذہین ہو جائے کہ انسانوں کو متاثر کرنے یا ان کے فیصلوں کو چکمہ دینے میں بھی ماہر بن جائے۔
تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اے آئی اور انسان دونوں توانائی، ڈیٹا اور کمپیوٹنگ پاور جیسے مشترکہ وسائل پر انحصار کرتے ہیں، اور اگر خود کو نقل کرنے والے اے آئی سسٹمز بڑھ گئے تو وہ ان وسائل پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
محققین نے واضح کیا کہ یہ ایک انتباہ ہے، حتمی پیشگوئی نہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ صورتحال سے بچنے کے لیے ابھی سے حفاظتی اقدامات کرنا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کسی بڑے خطرے سے بچا جا سکے۔