
حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بجلی پر دی جانے والی غیر ہدفی سبسڈیز ختم کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے، جس کے بعد کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے بجلی بلوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع وزارتِ توانائی کے مطابق مستقبل میں تمام صارفین سے بجلی کی مکمل قیمت وصول کی جائے گی، جبکہ صرف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں رجسٹرڈ کم آمدن والے صارفین کو سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ اس مقصد کیلئے 500 ارب روپے کی سبسڈی بی آئی ایس پی کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 300 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین اس فیصلے سے متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ ایک سے زائد میٹرز کے ذریعے سستی بجلی حاصل کرنے والے صارفین بھی نئے نظام کی زد میں آئیں گے۔
حکومت جنوری 2027 سے سبسڈی کی فراہمی صرف بی آئی ایس پی کے ذریعے کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ حکام کے مطابق پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد ایک کروڑ سے بڑھ کر 2 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ ایک ہی گھر میں 2 سے 3 میٹرز کا استعمال ہے۔
پاور ڈویژن نے بجلی کے بلوں میں دی جانے والی سبسڈی کو واضح طور پر ظاہر کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ صارفین کے بلوں میں بجلی کی اصل قیمت اور دی جانے والی سبسڈی دونوں الگ الگ درج ہوں گی۔
حکام کے مطابق موجودہ سبسڈی نظام ختم کرنے کیلئے نیا طریقہ کار تیار کیا جا رہا ہے، جسے اگست تک آزمائشی بنیادوں پر ٹیسٹ کیا جائے گا۔ اس کے تحت بجلی صارفین کا ڈیٹا بی آئی ایس پی رجسٹری سے منسلک کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو توانائی اصلاحات کو ماحولیاتی اہداف سے ہم آہنگ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے، جبکہ ماحول دوست منصوبوں کیلئے 250 ملین ڈالر کے پانڈا بانڈز جاری کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
حکومت آئندہ سال سے کسانوں پر ڈیجیٹل آبپاشی ٹیکس عائد کرنے پر بھی غور کر رہی ہے، جس سے حاصل ہونے والی رقم آبپاشی نظام کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن پر خرچ کی جائے گی۔ ترقیاتی منصوبوں میں کلائمیٹ ترجیحات کا تناسب 30 فیصد تک بڑھانے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے، جبکہ پاکستان کو موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کیلئے جدید نظام ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔