پاکستان میں کیپٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی شرح ایک فی صد سے بھی کم

اسلام آباد: کیپٹل مارکیٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے معاہدے پر دستخط کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس میں ایس ای سی پی اور مارکیٹ اداروں کا مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا۔ اس اقدام کو کیپٹل مارکیٹ کے فروغ، سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافے اور مالی آگاہی کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ پاکستان میں کیپٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے اور اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا رجحان محدود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایس ای سی پی کا ہدف سرمایہ کاروں کی تعداد کو بڑھا کر 25 لاکھ تک لے جانا ہے۔

ان کے مطابق اس مقصد کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے، جس کے تحت نوجوانوں اور نئے سرمایہ کاروں کو مارکیٹ میں لانے کے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں، جبکہ آگاہی مہم اور اصلاحات بھی جاری ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بہتری کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں اور اب ملک کو خود انحصاری کی طرف بڑھنا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو ماہ کی کوششوں کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام آیا ہے اور تیل کی سپلائی کے لیے فنڈز کی دستیابی یقینی بنائی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے اسٹاک مارکیٹ کو معیشت کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشکلات کے باوجود مارکیٹ کا مستحکم رہنا خوش آئند ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ این ایف سی سمیت اہم معاشی معاملات پر مشاورت جاری ہے جبکہ معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے نوجوان نسل کو سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایس ای سی پی کو اپنے طریقہ کار مزید آسان بنانے چاہئیں، اور حکومت ریگولیٹری اصلاحات میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں