1 مہینے روزانہ گوند کتیرا کھانے سے جسم میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ نئی تحقیق میں اہم انکشافات

گرمیوں میں استعمال ہونے والا روایتی جز گوند کتیرا نہ صرف جسم کو قدرتی ٹھنڈک فراہم کرتا ہے بلکہ صحت کے لیے بھی کئی فوائد رکھتا ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق اگر گوند کتیرا معتدل مقدار میں روزانہ ایک ماہ تک استعمال کیا جائے تو اس کے مثبت اثرات جسم پر نمایاں ہونے لگتے ہیں۔

گوند کتیرا پانی میں بھگونے کے بعد جیلی جیسی شکل اختیار کر لیتا ہے، جو جسم میں پانی کی کمی پوری کرنے اور شدید گرمی برداشت کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا روزانہ استعمال جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں معاون ہوتا ہے۔ اس میں موجود حل پذیر فائبر نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے، قبض کم کرنے، معدے کو سکون پہنچانے اور آنتوں کی حرکت متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق چونکہ گوند کتیرا پھول کر حجم میں بڑھ جاتا ہے، اس لیے اسے کھانے کے بعد زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، جس سے غیر ضروری کھانے اور اسنیکس کی عادت میں کمی آ سکتی ہے۔

گرمیوں کے روایتی مشروبات میں گوند کتیرے کا استعمال طویل عرصے سے کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مناسب مقدار میں پانی اور ٹھنڈے مشروبات کے ساتھ اس کا استعمال جسمانی توانائی برقرار رکھنے اور تھکن کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گوند کتیرا آنتوں میں مفید بیکٹیریا کی افزائش کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتا ہے، جس سے نظامِ ہاضمہ مزید بہتر رہتا ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق گوند کتیرا شامل گھریلو مشروبات بازار میں دستیاب میٹھے اور مصنوعی ڈرنکس کا بہترین متبادل ثابت ہو سکتے ہیں۔

گوند کتیرا استعمال کرنے کا طریقہ:
1 سے 2 چمچ گوند کتیرا رات بھر پانی میں بھگو دیں۔ صبح یہ پھول کر نرم جیلی کی شکل اختیار کر لے گا، جسے دودھ، لیموں پانی، شربت، ناریل پانی، فالودہ یا کھیر میں شامل کر کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ گوند کتیرا مفید غذائی جز سمجھا جاتا ہے، تاہم اسے متوازن غذا اور مناسب مقدار میں پانی کے ساتھ ہی استعمال کرنا چاہیے، کیونکہ ضرورت سے زیادہ استعمال نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ کسی بھی طبی مسئلے یا خاص غذائی ضرورت کی صورت میں ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت سے مشورہ ضرور کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں