لاہور(رپورٹ:ندیم ساجد) پانچ ٹی 20میچز کی سیریز کے چوتھے میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 115 رنز سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کرلی۔ پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جو شاہینوں کیلئے کارگر ثابت نہ ہوا، کیویز نے پہلے کھیلتے ہوئے پاکستانی باؤلرز کی خوب درگت بنائی۔ میزبان نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئےمقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 220 رنز بنائے، کیویز کی جانب سے فن ایلن 50 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہے، ٹم سائفرٹ نے 44، مارک چیپمن نے 24 اور ڈیرل مچل نے 29 رنز بنائے۔اسی طرح جمی نیشم اور مچل ہائے 3،3 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے جبکہ مائیکل بریسویل 46 اور زاکرے فاکس 3 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔پاکستان کی جانب سے حارث رؤف نے 3 ، ابرار احمد نے اور عباس آفریدی نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا جبکہ پہلے اوور میںوکٹ لینے کے حوالے سے کچھ عرصہ قبل تک مشہور شاہین آفریدی کوئی وکٹ نہ لے سکے، شاہین آفریدی اور شاداب خان بغیر کوئی وکٹ لیے 49،49 رنز کے عوض مہنگے ترین باؤلر ثابت ہوئے۔ہدف کے تعاقب میں کھیل کے آغاز میں ہی پاکستانی بیٹنگ لائن لڑکھڑا گئی اور ٹیم تو چل میں آیا عملی نمونہ بن کر رہ گئی، پاکستان کے 9 کھلاڑی ڈبل فگر میں بھی داخل نہ ہو سکے صرف عبدالصمد 44 اور عرفان خان 24 رنز بنا پائے۔اوپنر محمد حارث 2، حسن نواز ، کپتان سلمان آغا ، عباس آفریدی اور شاداب خان ایک ، ایک رن بنا کر چلتے بنے جبکہ خوشدل شاہ اور حارث رؤف نے 6،6 اور ابرار احمد ایک رن بنا کر پویلین لوٹ گئے۔یوں پاکستان کی پوری ٹیم 17ویں اوور میں 105 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 115 رنز سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کرلی۔میزبان نیوزی لینڈ کی جانب سے جیکب ڈفی نے 4 اور زاکرے فاکس نے 3 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی جبکہ ول اوررک ، جمی نیشم اور ایش سوڈھی نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔قومی کرکٹ ٹیم نے اس میچ میںجہاںخراب بائولنگ کا مظاہرہ کیا وہیںکئی کیچز بھی ڈراپ کئے اور بیٹنگ میںبھی کوئی کھلاڑی قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا سکا ، سوچنے والی بات یہ ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میںدکھائی جانے والی کس کارکردگی کی بنیاد پر ان کھلاڑیوںکا قومی کرکٹ ٹیم میںانتخاب کیا جاتا ہے ، کیا ہماری کرکٹ ٹیم صرف کمزور ٹیموں کے خلاف ہی پرفارم کرسکتی ہے ، لیکن ماضی کو دیکھا جائے تو آئی سی سی ریٹنگ میںسب سے کمزور ٹیم آئر لینڈ بھی ورلڈ کپ میںپاکستان کو شکست دے چکی ہے ،مسلسل خراب کارکردگی کے باوجود شاہین آفریدی سلیکٹرز کی آنکھوںکا لاڈلا ہے اور اسے ٹیم سے ڈراپ نہیںکیا جا رہا جبکہ حارث رئوف بگ بیش کے بعد اب تک قومی کرکٹ ٹیم کیلئے کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیںدکھا سکے .نسیم شاہ ،محمد وسیم ، شاہین شاہ کے حوالے سے ڈومیسٹک کرکٹ میںتعریفوںکے پل باندھے جاتے ہیںلیکن جب یہ کھلاڑی کسی مضبوط ٹیم کے خلاف میدان میںآتے ہیںتو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی کلب ٹیم کا کھلاڑی اپنا پہلا میچ کھیلنے کیلئےمیدان میںاتراہے ، اس وقت سلیکشن کمیٹی کے بیانات کے مطابق وہ ورلڈ کپ کیلئے ٹیم کی تیاری کر رہے ہیں، مگر ان کھلاڑیوںکو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ انہوںنے شاید کبھی بلا اور گیند ہاتھ میںتھاما تک نہیں، نہ کسی بلے باز کا فٹ ورک دکھائی دیتا ہے، نہ وہ گیند کی لائن میںآکر سٹروک کھیلتا ہے نہ کوئی بائولر 90 میل کی رفتار سے گیند کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے .اب اگر پی سی بی کا موقف ہے کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میںبہترین کارکردگی دکھانے والوںکو ہی قومی ٹیم میںموقع دیتا ہے تو اس سے کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار کیا ہوگا .حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی کھلاڑی جب کسی اور لیگ میںبھاری معاوضے لے کر کھیلتے ہیںتو وہاں ان کی پرفارمنس داد دینے کے قابل ہوتی ہے لیکن قومی ٹیم میںقدم رکھتے ہی یہ کسی سڑک پر کھیلنے والے کرکٹ کی طرحسٹروک کھیل کر اور بائولنگ کر کے مخالف ٹیم کی جیت کی راہ ہموار کرتے ہیں.آج کل کی کلب کرکٹ میںمقابلہ اتنا سخت ہوگیا ہے کہ یہاں11ویںنمبرپر کھیلنے والا کھلاڑی بھی تین چار چھکے لگا ہی لیتا ہے مگر ہماری قومی ٹیم میںکھیلنے والوںکو دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید انہیںکبڈی ٹیم سے اٹھا کر کرکٹ ٹیم میںشامل کر دیا گیا ہے اور انہوںنے تمام عمر کبھی بلے اور گیند کو ہاتھ نہیںلگایا .پی سی بی اور سلیکشن کمیٹی کے دعوے کچھ اور ہیںاور کھلاڑیوںکی پرفارمنس کچھ اور ظاہر کر رہی ہے .اگر ہمیں اپنی ٹیم کو مستقبل میں ایسی ذلت آمیزناکامیوںسے بچانا ہے تو ہمیںابھی سے میرٹ پر کھلاڑیوںکا انتخاب کرنا ہوگا اور پسند نا پسند اور رشتے داری کی بنیاد پر کھلاڑیوںکے چنائو کی پالیسی ترک کرنا ہوگی .اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو آنے والے دنوںمیںآئی سی سی رینکنگ میں ہمارا شمار نیدر لینڈ اور آئر لینڈ کی ٹیموں کے بھی بعد میںکیا جائے گا .