لاہور (سپورٹس ڈیسک)نیوزی لینڈ نے پاکستان کیخلاف سیریز کے دوسرے ون ڈے میچ میں پاکستان کو 84 رنز سے شکست دیکر سیریز میں 0-2 کی ناقابل شکست برتری حاصل کرلی۔ہیملٹن میں کھیلے گئے سیریز کے دوسرے میچ میں کیوی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ نے مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 292 رنز بنائے۔ اوپنرز نے ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کیا اور 6.2 اوورز میں 54 رنز کی شراکت قائم کی، لیکن اسی سکور پر نک کیلی 31 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹ گئے۔رہیس ماریو 18، ہینری نکولس 22، ڈیرل مچل 18، مائیکل بریسویل 17 رنز بنا سکے۔ محمد عباس نے اپنے کیرئیر کی دوسری اننگ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، 132 رنز پر کیویز کے 5 کھلاڑی آؤٹ ہونے پر محمد عباس نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کی اور 41 رنز بنائے۔کیویز کی جانب سے مچل ہے سب سے نمایاں بیٹسمین رہے جنہوں نے 78 گیندوں پر 7 چوکے اور 7 چھکوں کی مدد سے ناقابل شکست 99 رنز بنائے۔پاکستان کی جانب سے سفیان مقیم اور محمد وسیم نے 2،2 کیوی کھلاڑیوں کو شکار کیا، جبکہ حارث رؤف، فہیم اشرف اور عاکف جاوید کے حصے میں ایک ایک وکٹ آئی۔ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا آغاز نہایت مایوس کن رہا، پاکستان کے اوپنر عبداللہ شفیق نے 11 گیندوں پر صرف ایک رن بنا کر چلتے بنے، بابراعظم نے بھی ان کی تقلید کی اور 3 گیندوں پر 1 رن بنا کر پویلین لوٹ گئے جبکہ امام الحق کی ہمت صرف 3 رنز پر جواب دے گئی۔ کپتان محمد رضوان نے 27 گیندوں کا سامنا کیا اور محض 5 رنز بناکر روانہ ہوگئے جبکہ سلمان آغا 9 رنز بناسکے۔دیگر کھلاڑیوں میں طیب طاہر 13، محمد وسیم 1، عاکف جاوید 8 اور حارث رؤف 3 رنز بناکر ریٹائرڈ ہرٹ ہوئے۔ ادھر گرین شرٹس کی جانب سے فہیم اشرف نے سب سے زیادہ 73 رنز بنائے جبکہ نسیم شاہ نے 51 رنز کی اننگز کھیلی۔نیوزی لینڈ کی جانب سے بین سیئرز نے 4، جیکب ڈفی نے 3 جبکہ ول اورور اور نتھین سمتھ نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔قبل اریں پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے دوسرے میچ میں ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا، میچ کیلئے پاکستان نے پلئینگ الیون میں 4 تبدیلیاں کی تھی جن میں عثمان خان، محمد علی، عرفان خان نیازی اور نسیم شاہ پلئینگ الیون کا حصہ نہیں تھے۔ادھر نیوزی لینڈ کے سٹار بیٹر مارک چیپمین انجری کے باعث میچ سے باہر ہوگئے تھے۔قومی کرکٹٹیم کے 8 نام نہاد سپرسٹارز ڈبل فگرز میںبھی داخل نہ ہوسکے جبکہ نسیم شاہ نے کیرئیر بیسٹ اننگز کھیلتے ہوئے 51 رنز بنائے جس میں4 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے.پاکستان بلے بازوںکی جانب سے میچ میںایسی بلے بازی کا مظاہرہ کیا گیا جیسے کسی مقامی کرکٹ کلب کی ٹیم کسی بڑی اور منجھی ہوئی ٹیم کے سامنے بیٹنگ کر رہی ہو .اب یہاںسوال یہ نہیں کہ ان کھلاڑیوں نے ایسی پچ پر اچھی بلے بازی کا مظاہرہ کیوں نہیںکیا گیا بلکہ سوال یہ ہے کہ آخر ڈومیسٹک کرکٹ سے کس پرفارمنس کی بنیاد پر انہیںقومی ٹیم میںشامل کیا گیا اور آنے والے ورلڈ کپ کیلئے انہی کھلاڑیوںمیں سے چن کر ٹیم کا انتخاب کرنے کا عندیہ دیا گیا .آخر کوئی تو وجہ ہوگی کہ سلیکٹر عاقب جاوید صاحب کو ان کھلاڑیوںمیںکوئی ایسی خوبی نظر آئی ہوگی کہ بغیر گیند کی لائن میںآئے ،بغیر قدموںکااستعمال کئے گلی محلے میںکھیلی جانے والی ٹیپ بال سٹائل سے کھیلنے والے بلے بازوںکو قومی ٹیم میںچن لیا گیا .قومی کرکٹ ٹیم میں اس وقت ایک بھی بائولر ایسا نہیںجو 90 میل کی سپیڈ سے بائولنگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو مگر سب کے ماتھے پر سپرسٹارز کے لیبل پہلے سے ہی آویزاںکئے جاچکے ہیں.بیٹنگ میںسیمنٹ وکٹوںپر کھڑے کھڑے کھیلنے کے عادی کھلاڑیوںکو یوں ٹیم میںشامل کیا گیا جیسے یہ تمام کھلاڑی سڑک کنارے کھڑے کسی اور کا انتظار کر رہے تھے اور سلیکشن کمیٹی نے انہیںقومی کرکٹ ٹیم کے کیمپ میںمدعو کر لیا.عبداللہ شفیق ،امام الحق ،طیب طاہر،محمد وسیم ،حارث رئوف،عاکف جاوید او ر نسیم شاہ سے اگر میڈیا یا عوام کی جانب سے یہ سوال پوچھا جائے کہ انہیںکس بنیاد پر ٹیم میںشامل کیا گیا ہے تو شاید وہ خودبھی اس سوال کا جواب نہیںدے سکیں گےنہ ہی ان کی پرفارمنس اس قابل ہے کہ ان کی سلیکشن کو درست ثابت کر سکے.حارث رئوف جنہوںنے بگ بیش لیگ میںدھوم مچائی ہوئی تھی آج تک اپنی برق رفتاری کے باوجود دوسری کسی بھی وکٹ پر گیند کو سوئنگ کرنے میںکامیاب نہیںہوسکے ، محمد وسیم جونیئر ،عاکف جاوید ، شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ بھی اسی درجہ بندی میںشامل ہیںجو گیند کو سوئنگ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں مگر مسلسل فلاپ کارکردگی کے باوجود ایسے کھلاڑیوں کا ٹیم میںشامل ہونا سلیکشن کمیٹی کے معیار اور سلیکشن کمیٹی کے ارکان کی صلاحیتوںپر سوالیہ نشان ہے جو ورلڈ کپ میںبہترین کارکردگی کے دعوے کر رہے ہیں.اگر انہیںکھلاڑیوںمیںسے ورلڈ کپ کیلئے ٹیم سلیکٹ کرنی ہے تو عوام خود کو ذہنی طور پر تیار رکھیںکہ ہم پہلے رائونڈ سے آگے نہیںجا پائیںگے کیونکہ بیٹنگ ، بائولنگ اور فیلڈنگ میںہمارے کھلاڑیوںکی کارکردگی سب لوگ دیکھ چکے ہیں.اب بھی وقت ہے ورلڈ کپ کیلئے ڈومیسٹک کرکٹکے باصلاحیت کھلاڑیوںکا چنائو کر کے ٹیم کا انتخاب کیا جائے تاکہ ہماری کرکٹ ٹیم دنیا بھر کیلئے مذاق بن کر نہ رہ جائے.