apna lahore

ذلت کا سلسلہ ٹیسٹ سے شروع، ون ڈے سیریزپر ختم

لاہور (رپورٹ :ندیم ساجد )قومی کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ ، ٹی ٹونٹی کے بعد ایک روزہ میچز کی سیریز میں بھی جس ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اس سے یقینا سلیکٹرز کیلئے کئی سوالات نے جنم لیا ہوگا اور اب شاید وہ مستقبل میں قومی کرکٹ ٹیم میں مثبت تبدیلیاں لانے کے حوالے سے غور بھی کر رہے ہوں گے ۔نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز سے قبل قومی کرکٹ ٹیم کے سلیکٹر عاقب جاوید نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے نیوزی لینڈ کیخلاف ایک بہترین ٹیم تیار کی ہے جو سیریز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور اس کے ساتھ ساتھ سیریز میں کارکردگی کی بنیاد پر آئندہ ورلڈ کپ کیلئے انہی کھلاڑیوں میں سے قومی کرکٹ ٹیم کا انتخاب کیا جائے گا ۔یہ بات بظاہر خوش آئند تھی کیونکہ دنیا کی ہر ٹیم مستقبل کے ایونٹ کیلئے موجودہ سیریز کی کارکردگی کی بنیاد پر منتخب کی جاتی ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ مینجمنٹ کی جانب سے ایک رٹا رٹایا بیان بھی جاری کیا جا رہاتھا کہ ٹیم کو نئے خون کی ضرورت ہے جس کیلئے نئے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے ۔لیکن اتنی بڑی سیریز میں اس نئے خون نے ٹیم کو مستقبل میں بہترین پرفارمنس کی امید تو نہ دلائی البتہ سلیکٹرز کے ارمانوں کا خون ضرور کر دیا ۔نیوزی لینڈ کیخلاف بیٹنگ ، بائولنگ اور آل رائونڈرز کے شعبے میں جتنے کھلاڑیوں کو بھی شامل کیا گیا اگر غیر جانبدارانہ انداز سے دیکھا جائے تو ان میں سے کوئی بھی کھلاڑی اس کا اہل نہیں کہ اسے ٹیم کے ساتھ بطور بارہویں کھلاڑی کے جانے کا موقع دیا جائے ۔نیوزی لینڈ کیخلاف میچز میں قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی جانب سے ایک بھی سنچری سکور نہ کی جا سکی اور ہدف کے تعاقب میں قومی کرکٹ ٹیم کی جانب سے یوں بلے بازی کا مظاہرہ کیا جا رہا تھا گویا سلیکشن کمیٹی سڑک یا کسی پارک میں ٹیپ بال کھیلنے والے نوجوانوںکو بہلا پھسلا کر ساتھ لے آئی ہے اور انہیں بیٹنگ کرنے کیلئے گرائونڈ میں بھیجا گیا ہے ۔گیند کی لائن میں آئے بغیر ٹیپ بال کے انداز میں کراس بیٹ شاٹس کھیل کھیل کر وکٹیں گنوائی جاتی رہیں اور سلیکٹرز بائونڈری کے باہر بیٹھے خاموشی سے تماشہ دیکھتے رہے ۔عثمان خان جنہیں بڑی ہٹیں کرنے کی بنیاد پر ٹیم میں لایا گیا وہ اپنے جوہر سینے میں دبائے پویلین واپس جاتے رہے ۔عبداللہ شفیق گیندیں ضائع کر کے سست بلے بازی کرتے رہے ۔ٹی ٹونٹی کیلئے اچانک کپتان منتخب ہونے والے سلمان آغا صرف 11 رنز بٹور سکے ،طیب طاہر کراس بلے سے سٹروک کھیل کر اپنی سلیکشن پر مہر تصدیق ثبت کرتے رہے ، ان کابلا ضرور تھوڑا بہت چلا لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ وہ انٹرنیشنل لیول کی ایک ٹیم کیخلاف ان کے ہوم گرائونڈ پر میچ کھیل رہے ہیں۔قومی ٹیم کی بائولنگ کسی کلب لیول کے معیار کی دکھائی دی ، کوئی بھی پاکستانی بائولر کیویز کو پریشان کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا ،90 میل سے بھی کم رفتار کے بائولرز کو بائونسی اور سیمنگ وکٹوں پر کھلانے کیلئے منتخب کرنے کی عظیم سوچ کس کی تھی یہ راز ابھی تک نہیں کھل سکا لیکن اس پر کمال یہ کہ ہمارے نااہل بائولرز ان وکٹوں پر بھی نیوزی لینڈ کی ٹیم کو ایک بار بھی آئوٹ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے ۔عاکف جاوید ، نسیم شاہ ، فہیم اشرف اور سفیان مقیم کیخلاف کیویز نے کھل کر سٹروکس کھیلے اور رنز بناتے رہے ۔ہمارے بائولرز اور فیلڈرز اس حوالے سے انتہائی اعلیٰ قرار دئیے جا سکتے ہیں کہ انہوں نے میچ میں سپورٹس مین سپرٹ کا بھرپور مظاہرہ کیا اور نیوزی لینڈ کی ہر بائونڈری پر بائولر سمیت فیلڈرز بھی مسکرا کر انہیں داد دیتے رہے گویا وہ کسی نمائشی میچ میں شریک ہوں۔یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ کیا ان کھلاڑیوں کا انتخاب پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ سے کیا گیا ہے اور اگر اس کا جواب مثبت ہے تو پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں کیا اس معیار کے کھلاڑی ہی باقی رہ گئے ہیں جو نہ تو برق رفتاری سے سپورٹنگ وکٹوں پر رنز بنا سکتے ہیں اور نہ ہی مخالف ٹیم کو آئوٹ کرسکتے ہیں ۔اب دل دہلا دینے والی ایک اور خبر جو کچھ روز قبل سلیکشن کمیٹی کی جانب سے سننے کوملی تھی کہ انہی کھلاڑیوں میں سے ورلڈ کپ کیلئے ٹیم کا چنائو ہونا ہے تو اس نے یقینا ہمارے دل دہلا رکھے ہیں کہ اگر ایسے غیر معیاری سٹروکس کھیلنے والے اور لائن اینڈ لینتھ سے ہٹ کر بائولنگ کرنے والے بائولرز میں سے ورلڈ کپ سکواڈ منتخب ہونا ہے تو ہم تمام امیدیں پہلے سے ہی ختم کردیتے ہیں ۔ایسا پہلی بار تو نہیں ہوا کہ ہماری ٹیم ورلڈ کپ کے پہلے رائونڈ سے ہی باہر ہوگئی ہو اگر اس بار بھی ایسا ہوجاتا ہے تو کون سی قیامت آجائے گی ،ہم اپنے فیورٹ کلب لیول کے کھلاڑیوں پرقومی کھلاڑی ہونے کا ٹھپہ تو لگوانے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔چیئرمین پی سی بی صاحب ، آپ سے التجا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے حال پر رحم کریں اور سلیکٹرز سے جواب طلبی ضرور کریں کہ نیوزی لینڈ کیخلاف سیریز کیلئے موجودہ ٹیم کا انتخاب کس میرٹ اور کس بنیاد پر کیا گیا تھا ۔آپ یقین کریں سرجری کا اصل وقت آچکا ہے ،ٹیم وطن واپس لوٹی ہے ، ٹیم کے کھلاڑی اور سلیکٹرز کو میٹنگ میں بلا کر ان سے باز پرس تو کریں ، سلیکشن کا میرٹ تو دریافت کریں کیونکہ یہ کسی سکول ، کالج یا کلب کی ٹیم نہیں یہ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم ہے جو 24 کروڑ لوگوں کی نمائندہ ٹیم ہے ۔

اپنا تبصرہ لکھیں