تحریر :ڈاکٹر وقار علی گل
مویشی پالنا برصغیر کے دیہی معاشرے کی قدیم روایت اور آج بھی لاکھوں خاندانوں کے روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔ پنجاب میں لائیو سٹاک فارمنگ دودھ، گوشت اور دیگر غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ دیہی معیشت کو سہارا دیتی ہے۔ موجودہ حکومتِ پنجاب نے اس شعبے کی اہمیت کو بروقت تسلیم کرتے ہوئے اسے جدید سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی قیادت میں لائیو سٹاک سیکٹر میں قابلِ ذکر اصلاحات متعارف کروائی گئیں، جن میں وزیر اعلی پنجاب لائیوسٹاک کارڈ سکیم نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ اس سکیم کے تحت چھوٹے اور بے زمین مویشی پال کسانوں کو مالی سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ جانوروں کی خوراک، ونڈہ، سائیلیج اور منرل مکسچر جیسی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔ سکیم کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی تیسری قسط کا اجرا بھی ہو چکا ہے۔محکمہ لائیو سٹاک پنجاب کی کوششوں سے مویشیوں کی متعدد بیماریوں پر قابو پایا گیا اور رنڈرپیسٹ جیسے مہلک مرض کا مکمل خاتمہ ممکن ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی نسلوں مثلا ساہیوال، ریڈ سندھی اور نیلی راوی کی افادیت اور جینیاتی برتری کو اجاگر کیا جا رہا ہے، جو مقامی موسمی حالات سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ عالمی سطح پر بھی نمایاں مقام رکھتی ہیں۔غیر سائنسی کراس بریڈنگ کے باعث مقامی نسلوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر حکومتِ پنجاب نے Herd Transformation Program کا آغاز کیا ہے۔ 5.2 ارب روپے کی لاگت سے جاری اس منصوبے کے تحت پنجاب کے مختلف اضلاع میں لاکھوں مویشیوں کی معیاری اور سیکسڈ سیمن سے نسل کشی کی جا رہی ہے، جبکہ جدید آئی وی ایف لیبارٹریوں اور موبائل اووم پک اپ یونٹس کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ محکمہ لائیو سٹاک پنجاب جدید تحقیق، پائیدار ترقی اور دیہی خوشحالی کی جانب عملی پیش رفت کر رہا ہے۔