لاہور (نیاز بٹ )پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ثاقب باجوہ کرپشن کنگ ڈاکٹر عتیق اور بیرے راشد کا گٹھ جوڑ،مریضوں کے کھانے سے بچنے والے روٹی کے ٹکڑے چوری کرنے کا انکشاف ،تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر عتیق جو سابق ای ڈی ڈاکٹر فرخ عبداللہ کے دور میں ہسپتال سے لکڑی ، کمبل ، چادریں ، سیڑھی ، بجلی کی تاریں چوری کرنے والوں کی سرپرستی بطور سکیورٹی انچارج کرتا رہا اور سکیورٹی گارڈوں ، صفائی کے ملازمین کی تنخواہوں میں حصہ دار اور ہر طرح کی خرید و فروخت میں کمیشن لینے میں ملوث رہا اور مینٹل ہسپتال کے ای ڈی ڈاکٹر ثاقب باجوہ جو کہ اس سیٹ کے اہل نہ ہیں ان کو اپنی انگلیوں پر نچانے میں کامیاب ،ڈاکٹر عتیق نے کرپشن کرنے کیلئے راشد نامی بیرے کو تمام معاملات پر سپروائز تعینات کر رکھا ہے جو کہ ڈاکٹر عتیق کے ایما پر دونوں شفٹوں میں مریضوں کو کھانے میں دی گئی روٹیوں کے بچ جانے والے ٹکڑے اٹھا کر کچن میں جمع کروانے کی بجائے کوڑے میں پھنکوا کر بعد میں صفائی کے ملازمین کی ملی بھگت سے چھان بورہ چوری کر کے فروخت کرنے میں کامیاب،ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عتیق اور ڈاکٹر فرخ عبداللہ کے خلاف لکڑی چوری کرنے کے متعلق اینٹی کرپشن میں درخواست زیر سماعت ہے لیکن ڈاکٹر عتیق نے اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنے کیلئے اپنے اختیارات اور مبینہ طور پر رشوت کے عوض ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ایس او سے مبینہ طور پر ساز باز کر کے اپنے خلاف انکوائری آج تک مکمل نہ ہونے دی ۔اس سلسلے میں مینٹل ہسپتال کے پیرامیڈیکل سٹاف اور نرسوں نے ڈاکٹر عتیق سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہم نے ڈاکٹر فرخ عبداللہ ،ڈاکٹر عتیق اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کرپشن کے خلاف احتجاج کیا تھا لیکن ڈاکٹر فرخ عبداللہ کو تبدیل کیا گیا جس کے بعد ڈاکٹر عتیق ، ڈاکٹر ثاقب باجوہ کے ساتھ مل کر کرپشن کر رہا ہے ۔ڈاکٹر عتیق کا برملا کہنا ہے میرے اوپر تک تعلقات ہیں میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔