لاہور (سید زمان شاہ / کرائم رپورٹر)پاکستان سپر لیگ میں آئے مہمان کھلاڑیوں کی آئو بھگت میں لاہور کے تمام تھانوں کی پولیس سر سے پیر تک مصروف ، کوئی ایسا تھانہ باقی نہیں بچاجس کی پولیس کو پی ایس ایل کی سکیورٹی پر تعینات نہ کیا گیا ہو جبکہ دوسری طرف تھانوں ، چوک چوراہوں ، گلیوں ، بازاروں سے پولیس کے غائب ہونے سے ڈاکو لٹیرے سرعام دن کی روشنی میں معصوم شہریوں کو اسلحے کے زور پر لوٹنے لگے ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز صبح کے وقت شاد باغ میں جنجوعہ آئی ہسپتال کے ساتھ والی گلی سے دو چوروں نے بغیر کسی خوف و پریشانی کے گھر کے باہر کھڑی کی ہوئی شہری کی 125 سی سی موٹر سائیکل کے تالے ڈپلیکیٹ چابی سے کھول کر چوری کر لی اور باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔موقع پر موجود کسی شہری کو اس بات کا شک بھی نہ ہوسکا اور دونوں چور موٹر سائیکل چوری کرکے فرار ہوگئے ۔چوری کا علم جب اہلخانہ کو ہوا تو انہوں نے فوری طور پر 15 پر پولیس کو اطلاع دی جس پر پولیس نے موٹر سائیکل کے مالک حبیب افضال کی شکایت پر ابتدائی شواہد کی روشنی میں کارروائی کا آغاز کر دیا ۔موٹر سائیکل مالک کے گھر کے قریب نصب سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزموں نے موٹر سائیکل چوری کرنے کیلئے نہ تو اس کا لاک توڑا اور نہ ہی زور زبردستی سے کام لیا بلکہ ماسٹر کی کی مدد سے اطمینان سے اس کا لاک کھولا اور موقع سے موٹر سائیکل چوری کر کے فرارہوگئے ۔اس ضمن میں پولیس کے سینئر اہلکاروں اور مختلف تھانوں کے ایس ایچ او صاحبان کا کہنا ہے کہ شہر کی آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے مگر حکومت اور پولیس کی جانب سے بدلتے ہوئے وقت کے تقاضوں کے پیش نظر اقدامات نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے کچھ عرصہ قبل امن کا گہوارہ سمجھا جانے والا علاقہ شاد باغ آج مجرموں ، ڈاکوئوں ، چوروں ، لٹیروں اور قاتلوں کی آماجگاہ بن چکا ہے ، شام کے بعد علاقے کی سڑکوں پر نکلنا خوف کی علامت بن چکا ہے ، علاقے بھر میں دندناتے ہوئے لٹیرے جس کو چاہیں بندوق کی نوک پر چند لمحوں میں قیمتی اشیا اور نقدی سے محروم کر کے فرار ہوجاتے ہیں اور پولیس اپنا روائتی جواب دے کر عوام کو تسلی دے دیتی ہے کہ ملزموں کیخلاف شواہد اکٹھے کئے جا چکے ہیں اور جلد ملزم قانون کی گرفت میں ہوں گے ۔شاد باغ پولیس کی اسی ناقص کارکردگی کی وجہ سے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ”محفوظ پنجاب ” کے ویژن کو مسلسل ناکام بنانے کی مذموم سازش کی جا رہی ہے اور اس میں سب سے اہم کردار ایسے پولیس افسروں کا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر سب اچھا کی رپورٹ اعلیٰ حکام تک پہنچا کر اپنی ”ذمہ داری ” پوری کر رہے ہیں ۔شاد باغ کے مکینوں کا اس حوالے سے دہائی دیتے ہوئے کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے علاقے میں قانون کی بالادستی کی باتیں اور دعوے کئے جاتے ہیں جبکہ حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ اس علاقے کا کوئی بچہ بوڑھا جوان خاتون ڈاکوئوں اور لٹیروں کی دسترس سے محفوظ نہیں ۔علاقے میں پہلے تو رات کے اندھیرے میں وارداتیں اور جرائم ہوتے تھے لیکن اب تو دن کے اجالے میں بھی سرعام پولیس کی آنکھوں کے سامنے ایسے وارداتیں کی جاتی ہیں گویا تمام جرائم پیشہ افراد کو پولیس کی سرپرستی حاصل ہو اور انہیں اپنی گرفتاری اور سزا کا رتی برابر بھی خوف نہ ہو ۔شاد باغ میں جرائم کی اس سنگین ترین صورتحال کے حوالے سے جب ایس ایچ او تھانہ شاد باغ شہریار سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے موقع سے واردات کے تمام شواہد اور چشم دید گواہوں کے بیانات اکٹھے کر لئے ہیں جن کی روشنی میں صرف دو روز میں تمام کارروائی مکمل کر کے نہ صرف ملزموں کو گرفتار کیا جائے گا بلکہ انہیں قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا بھی دی جائے گی۔
Nice work. Keep it up.