
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی افزودہ یورینیئم کو صرف دفن کرنا کافی نہیں بلکہ امریکا اسے اپنے قبضے میں لے گا۔
ایک حالیہ انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ بعض امریکی جرنیلوں کے مطابق ایران کی افزودہ یورینیئم کو براہِ راست حاصل کرنا ضروری ہے، اور کیا اسے اس طرح زیرِ زمین دفن کیا جا سکتا ہے کہ ایران دوبارہ اس تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔
اس سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے نزدیک ایرانی یورینیئم کو دفن کرنا صرف عوامی تعلقات کے لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اس یورینیئم کو حاصل کرے گا۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کے اس بیان کو ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکی مؤقف میں سخت مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر حال ہی میں دو روزہ دورے پر چین گئے تھے، جہاں انہوں نے بیجنگ میں ملاقاتیں کیں اور بعد ازاں واپس روانہ ہو گئے۔
اپنے دورے کے دوران انہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے چینی صدر کے ساتھ ایران کے معاملے پر بھی گفتگو کی، اور دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں اور آبنائے ہرمز کو کھلا رہنا چاہیے۔